اس کے نزدیک غمِ ترک وفا کچھ بھی نہیں
مطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں
کل بچھڑنا ہے تو پھر عہدِ وفا سوچ کے باندھ
ابھی آغاز محبت ہے گیا کچھ بھی نہیں
میرا پہلا محبوب جو سامنے آئے تو چہرہ پھیر لوں میں
تو تو دسواں بارہ ہے تو کون سی بات پہ اتراتا ہے بھلا