توبہ کا تکلف کون کرے حالات کی نیت ٹھیک نہیں
رحمت کا ارادہ بگڑا ہے برسات کی نیت ٹھیک نہیں
اے شمع بچانا دامن کو عصمت سے محبت ارزاں ہے
وہ باتیں تری وہ فسانے ترے
شگفتہ شگفتہ بہانے ترے
بس اک داغ سجدہ مری کائنات
جانِ من آپ ایک کام کریں
اپنے الزام میرے نام کریں
آپ کی تمکنت کی عمر دراز
ساز ہستی بجا رہا ہوں میں
جشن مستی منا رہا ہوں میں
کیا ادا ہے نثار ہونے کی
روٹھے ہوئے یاروں سے میرا ذکر نہ کرنا
بےفیض بہاروں سے میرا ذکر نہ کرنا
جن راہگزاروں میں میرے ساتھ تھے تم بھی
یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے
یہ تیری نظر کا قصور ہے
کہ شراب پینا سیکھا دیا