اختر شمار

اختر شمار

غزل (1)

اس کے نزدیک غمِ ترک وفا کچھ بھی نہیں
مطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں
اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں

شعر (2)

کل بچھڑنا ہے تو پھر عہدِ وفا سوچ کے باندھ
ابھی آغاز محبت ہے گیا کچھ بھی نہیں
اس کے نزدیک غمِ ترک وفا کچھ بھی نہیں
مطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں