ندا فاضلی

ندا فاضلی

غزل (4)

بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا
جو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا
سب کچھ تو ہے کیا ڈھونڈھتی رہتی ہیں نگاہیں
سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو
سبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو
کسی کے واسطے راہیں کہاں بدلتی ہیں
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے
عشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے
ان سے نظریں کیا ملیں روشن فضائیں ہو گئیں
نئی نئی آنکھیں ہوں تو ہر منظر اچھا لگتا ہے
کچھ دن شہر میں گھومے لیکن اب گھر اچھا لگتا ہے
ملنے جلنے والوں میں تو سب ہی اپنے جیسے ہیں