عمار اقبال

عمار اقبال

غزل (4)

جہل کو آگہی بناتے ہوئے
مل گیا روشنی بناتے ہوئے
کیا قیامت کسی پہ گزرے گی
مجھ سے بنتا ہوا تو تجھ کو بناتا ہوا میں
گیت ہوتا ہوا تو گیت سناتا ہوا میں
ایک کوزے کے تصور سے جڑے ہم دونوں
رنگ و رس کی ہوس اور بس
مسئلہ دسترس اور بس
یوں بنی ہیں رگیں جسم کی
عکس کتنے اتر گئے مجھ میں
پھر نہ جانے کدھر گئے مجھ میں
میں نے چاہا تھا زخم بھر جائیں